39

فیکٹ  سٹوری: کیا ساہیوال میں مزدوری مانگنے پر توہین مذہب کا مقدمہ بنایا گیا ؟

ساہیوال نیوز کے فیکٹ سٹوری میں حقائق سامنے آگئے، سوشل میڈیا کا دعویٰ غلط نکلا۔۔۔

ساہیوال کے علاقے چیچہ وطنی سے سامنے آنے والی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کام کے بعد یومیہ اجرت مانگنے پر ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس پر توہین مذہب کا مقدمہ بنا دیا گیا۔ تاہم آج نیوز کی جانب سے فیکٹ چیک پر علم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔

متاثرہ خاندان سے تعلق رکھنے والے وسیم نامی شخص نے ساہیوال ٹیم کو فون کے ذریعے تصدیق کی کہ ان کا تعلق مسیحی برادری سے نہیں ہے، وہ مسلمان ہیں اور انہیں شہر کے کچھ بااثر افراد نے مارا پیٹا ہے۔ وسیم نے حکام سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ ویڈیوز 16 اگست کو جڑانوالہ تشدد کے چند دن بعد ایکس پر اپ لوڈ کی گئی تھیں جب ایک ہجوم نے کم از کم 19 گرجا گھروں اور مسیحی برادری کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی تھی

ان میں سے ایک ویڈیو کو اب تک ایکس پر 10,000 سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے کیونکہ جڑانوالہ واقعے کے تناظرمیں بیشتر نے تبصروں میں اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

19 اگست کو اوکانوالہ بنگلہ پولیس اسٹیشن میں مکان مالک الزام علیہہ کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس نے میر ولی چوک پہنچنے پر جاوید نامی ایک رکشہ ڈرائیور کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔

ایف آئی آر میں محمد یونس، عبدالسلام، طلعت، اصغر علی، فضل الٰہی، غلام رسول، کاشف، وقاص اور نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

شکایت کنندہ محمد جاوید لڑکیوں کو اسکول چھوڑنے جا رہا تھا۔ ملزم نے بچوں کو دھمکی دی کہ وہ رکشے سے باہر چلے جائیں ورنہ وہ ان کی پٹائی کرے گا۔

ایف آئی آرمیں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم نے پڑوس کے لوگوں کی درخواست کے باوجود رکشہ ڈرائیور کو پیٹنا بند نہیں کیا۔ علی نے متاثرہ شخص کے سر پر بندوق رکھی تھی لیکن لوگوں کی جانب سے ایسا نہ کرنے کی درخواست پر انہوں نے گولی نہیں چلائی۔

ایف آئی آر میں دفعہ 354 (عورت کی حرمت کو مجروح کرنے کے ارادے سے اس پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال)، 337-ایف (1) (غیر جہیفہ کی سزا: جو شخص کسی شخص کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کوئی کام کرتا ہے، یا اس بات کا علم رکھتا ہے کہ وہ کسی شخص کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اس کا سبب بنتا ہے: (1) کسی شخص کو نقصان پہنچانا، اس کے علاوہ 341 (غلط طریقے سے روکنے کی سزا)، 506 (مجرمانہ دھمکی کی سزا)، 148 (فساد پھیلانا، مہلک ہتھیاروں سے لیس) اور 149 (غیر قانونی اجتماع کا ہر رکن مشترکہ مقصد کے لیے جرم کا مرتکب ہو سکتا ہے) کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

جاوید نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ، انہوں نے ڈی پی او ساہیوال سے تشدد کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

معاملے پر بات کرتے ہوئے ڈی پی او فیصل شہزاد نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں