یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں ایک کروڑ روپے سے زائد فیسوں کی مد میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل

یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں ایک کروڑ روپے سے زائد فیسوں کی مد میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا۔

یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں سٹوڈنٹس کی فیسوں میں ایک کروڑ روپے سے زائد کا فراڈ سامنے آ گیا۔

فراڈ کرنے میں مرکزی کردار ایڈیشنل ٹریثری اور اسسٹنٹ ٹریثری کا اسسٹنٹ شاہد حسین شامل ہے۔یونیورسٹی ذرائع

وائس چانسلر کیجانب سے واقعہ پر ایک انکوائری کمیٹی بنائی گئی تھی۔ذرائع

انکوائری کمیٹی کیجانب سے شاہد حسین کیساتھ ملوث دیگر چار افراد سے تحقیقات کی گئی۔ذرائع

اسسٹنٹ شاہد حسین کے چار دیگر ساتھیوں شاہد عباس، محمد مبین،مدین علی،انیس احمد نے اپنے جرم کے اعتراف میں انکوائری کمیٹی کو بیان حلفی دیدیا۔ذرائع

کمیٹی کی تحقیقات کی روشنی میں پانچوں کرپشن میں ملوث ملازمین کے یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔ذرائع

واقعہ میں ملوث ملازمین کیجانب سے اختیار اعلی کے جعلی دستخط ،یونیورسٹی کی جعلی سرکاری مہریں بنا کر جعلی فیس ووچر بنا کر فیسیں وصول کرنا ثابت ہوا ہے۔ذرائع

یونیورسٹی انتظامیہ کیجانب سے ایف آئی حکام کو تمام کرپشن میں ملوث ملازمین کے باہر جانے سے روکنے کیلئے بھی لیٹر لکھ دیا گیا ہے۔ذرائع

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کیجانب سے تمام ملازمین کیخلاف مقدمہ کے اندراج کیلئے ڈائریکٹر انٹی کرپشن کو بھی تحریری درخواست بھجوائی جا چکی ہے۔ذرائع

اپنا تبصرہ بھیجیں