137

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سابق وفاقی وزیر جاوید لطیف کی ساہیوال آمد اور میڈیا سے گفتگو

ساہیوال: مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سابق وفاقی وزیر جاوید لطیف کی ساہیوال آمد اور میڈیا سے گفتگو…

21 اکتوبر کوبالخصوص پنجاب اور بالعموم ملک بھر سے پاکستان کو بچانے کے لیے لوگ مینار پاکستان پہنچیں گے ۔نواز شریف نے ہی ملک کو ہمیشہ گرداب سے نکالا ہے ۔ بیانیہ کا مطلب ترجیحات ہوتی ہی اور ۔ہر جماعت کی ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں2017 کے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے ۔ووٹ کو عزت دینے کا مطلب ہے کہ جس کو ووٹ ڈالا جائے اسی کا نکلے۔اور ملک اور آئین کے مطابق چلے ۔پونے چار سالوں کو پی ڈی ایم اے کے سولہ ماہ سے موازنہ کرکےدیکھیں ،کیا دونوں برابر ہیں۔پانچ سال پہلے ترقی کرتے پاکستان کو ڈبویا کیسے گیا یہ دیکھیں۔لیاقت علی خان سے ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف تک دیکھیں انکے ساتھ کیا ہوا
۔اداروں میں منظم سازی سے کس طرح اداروں میں دراڑ ڈالی گئی ۔ایک ادارے نے خود احتسابی کی تو ہماری بات سب کو سمجھ آئی کہ 9 مئی کے واقعات میں کون سہولت کار تھا ۔ہم 21 اکتوبر کو تجدید عہد اور 2017 کا پاکستان بنانے کے لیے اپنا عزم ظاہر کریں گے۔عالمی اسٹیبلشمنٹ اور وہ قوتیں جو ترقی کرتا پاکستان نہیں دیکھنا چاہتی وہ عمران خان کو بچانے کے لیے کوشش کر رہی ہے ۔بشری بی بی سے ملاقاتیں کروائی جا رہی ہیں ۔بھٹو ،بے نظیر اور نواز شریف کے لیے ان عالمی قوتوں نے کبھی آواز نہیں اٹھائی ۔امریکی کانگریس میں موجود 60 لوگوں کی اکثریت اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔اسرائیل عمران کو بچانے کے لیے کوشاں ہے ۔جس ملک کے خلاف سائفر لہرایا اس ملک نے آج تک اس کا برا نہیں منایا ۔9 مئی کے سہولت کاروں کو آپ سیاست دان نہیں دہشت گرد کہیں گئے
۔اگر سرحد پار سے کوئی 9 مئی کا واقعہ کرتا تو آپ اسے سیاستدان کہتے.
۔اگر آئین اور قانون میں انکو رعایت ہے تو سب کو صبح چھوڑ دیں۔جتنے جلدی الیکشن ہو سکتے ہوں ہونے چاہئیں ۔القادر ٹرسٹ ،9 مئی،توشہ خانی سب چھوٹی چیزیں ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ کیا عمران خان نے اداروں میں بغاوت کروانے کی کوشش کی ہے یا نہیں.
ساری ژندگی ویلا رہنے والا بندہ اگر کروڑوں خرچ کرتا ہے تو پوچھنا ہمارا فرض نہیں کہ یہ فارن فنڈنگ اور یہ اخراجات کہاں سے چلائیں گے.نواز شریف دسمبر2021 میں بھی آنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔لیکن اس وقت کے وزیراعظم نے اداروں کو بلا کر کہا نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے بھاری فنڈز خرچ کیے جا رہے ہیں ۔2013 میں بجلی اور دہشت گردی جیسے چینلجز کا سامنا کرتے ہوئے بہترین معیشت بنایا.میرا بلاول بھٹو سے اچھا تعلق ہے لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ ہم سندھ میں اپنے امیدوار کھڑے نہ کریں۔ جن کرداروں نے 2017 میں فیض آباد دھرنے اور ایک پارٹی کو لانے اور بھیجنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں