202

ساہیوال میں پتنگ بازی جیسے خونی کھیل پر مکمل پابندی عائد، خلاف ورزی کرنے والوں پر قانونی کاروائی کرنے کے احکامات جاری

ساہیوال میں پتنگ بازی جیسے خونی کھیل پر مکمل پابندی عائد، خلاف ورزی کرنے والوں پر قانونی کاروائی کرنے کے احکامات جاری

وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پنجاب بھر میں پتنگ بازی جیسے خونی کھیل سے بڑھتے ہوئے حادثات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس لے لیا۔

ڈی پی او ساہیوال فیصل شہزاد نے ساہیوال پولیس کو ضلع بھر میں پتنگ بازی اور پتنگ فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

تمام سرکل افسران اور ایس ایچ اوز کو سخت ہدایات کا مراسلہ جاری۔

تمام سرکل افسران و ایس ایچ اوز اپنے اپنے علاقوں میں موجود پتنگ فروشوں اور پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں۔

اپنے اپنے علاقوں میں پٹرولنگ کے نظام کو مؤثر بنائیں خصوصاً ویک اینڈ اور چھٹی کے ایام میں سپیشل موٹر سائیکل سکواڈ اور پولیس موبائل ٹیمیں تشکیل دے کر پتنگ بازی جیسے خونی کھیل کھیلنے والوں کے خلاف بھرپور آپریشن کریں۔

سرکل افسران و ایس ایچ اوز اپنے علاقے میں موجود سیاسی و سماجی اور مذہبی نمائندوں کے ذریعے کمیٹیاں تشکیل دے کر شہریوں میں پتنگ بازی کے ذریعے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کریں اور اس کھیل میں شامل عناصر کی حوصلہ شکنی کرائیں۔

تمام ایس ایچ اوز اپنے اپنے علاقوں میں سپیشل سکواڈ تشکیل دے کر اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈرون کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کریں اور پتنگ بازی میں ملوث پائے جانے والے افراد کی فہرستیں تیار کرکے ان کو حراست میں لیکر پابند سلاسل کریں۔
ضلع میں داخل ہونے والی گاڑیوں خصوصاً مال بردار گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جائے اور پتنگوں و دھاگوں کی پنجاب میں سمگلنگ کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کریں۔

اگر کسی تھانہ کی حدود میں پتنگ فروشی یا پتنگ بازی کی اطلاع موصول ہوئی یا پتنگ بازی کی وجہ سے کسی حادثہ کی اطلاع ملی تو اس ایس ایچ او کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کی جائے گی۔

ڈی پی او ساہیوال فیصل شہزاد نے ساہیوال کے شہریوں سے بھی التماس کی ہے کہ اپنے بچوں کو پتنگ بازی جیسے خونی کھیل کھیلنے سے سختی سے منع کریں اور ان کو اس کھیل کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

اور ایسے عناصر کی بروقت اطلاع ریسکیو پکار 15 پر دیں تاکہ خونی کھیل کا کاروبار کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں