85

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ساہیوال آمد، سانحہ ٹیچنگ ہسپتال کی انکوائری پر ایکشن

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں 11 بچوں کے جاں بحق ہونے کے سانحہ پر غمزدہ خاندانوں کا دکھ بانٹنے پہنچ گئیں اور سانحہ پر خود معذرت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے ایم ایس، اے ایم ایس اور ایڈمن آفیسر پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور فوری محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے سا نحہ کے حقیقی ذمہ داروں کا تعین کرکے نشان عبرت بنانے کا حکم دیا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں 11بچوں کے جاں بحق ہونے کے سانحہ سے متعلق چار گھنٹے طویل انکوائری اجلاس منعقد ہوا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ساہیوال سانحہ کی تمام انکوائری رپورٹ کی سی سی ٹی ویڈیوز خود چیک کیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ آپ کے ضمیر ملامت نہیں کرتے،خود کو ان بچوں کے والدین کی جگہ رکھ کر دیکھیں۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق آگ بجھانے والے آلات اپریل سے ایکسپائر ہوچکے تھے،اطلاع کے باوجود تبدیل نہیں کئے گئے۔ آگ بجھانے والے آلات کیا ڈیکوریشن پیس کے طور پر لگائے گئے،کوئی مشق نہیں ہوئی کسی کو استعمال نہیں آتا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بچوں کو نکالنے والے ریسکیورز کو شاباش دی،انعام کا اعلان کیا اورسانحہ تفصیلات دریافت کیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ آگ لگی تو آگ بجھانے والے آلات کیوں نہیں لائے گئے۔ ہیلتھ کو اربوں دے رہے ہیں، پھر غریب مریضوں سے داخلے کے لئے پیسے کیوں لئے جاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئی اور رپورٹ میں سب اچھا لکھا گیا۔کروڑوں کی مشینیں اور ادویات دیتے ہیں، ایکسرے اور دوائیاں باہر سے آرہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی وتعزیت کا اظہا رکیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے والدین سے باری باری سانحہ کی تفصیلات دریافت کیں۔بتا یا گیا کی ایک بچی کی والدہ کو سانحہ کا سن کر ہارٹ اٹیک ہوا جو فی الوقت علاج کے لیے پی آئی سی میں داخل ہیں۔ والدین کی باتیں سن کر وزیر اعلیٰ مریم نواز افسردہ اور پریشان ہوگئیں۔سانحہ میں جاں بحق ہونے والی بچی عافیہ کے والد محمد علی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے،انصاف کی توقع ہے۔ سانحہ کے بعدپولیس نے ڈنڈے مارے،گارڈ نے بوڑھی ماں کو دھکے دیئے۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے ہسپتال گارڈز کے مریضوں سے رویے پر شدید برہمی کا اظہا رکیا اور ڈی پی او ساہیوال کو پیسے لینے کی شکایت پرسیکورٹی گارڈز کی انکوائری کا حکم دیا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے تمام ہسپتالوں کے سیکورٹی آڈٹ کا حکم بھی دیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ بچوں کے والدین کے غم برابر کی شریک ہوں، والدین کی داد رسی کے لیے حاضر ہونے آئی ہوں۔ بچھڑ جانے والے ننھے پھولوں کو واپس نہیں لا سکتے،انشاء اللہ پوری کوشش ہے ایسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ بچھڑنے والے بچوں میں امیر معاویہ ولد اصغر علی،آسیہ ولد محمد وسیم، بی بی لوف عریبہ ولد اشفاق عباس، بی بی غلام عباس ولد غلام عباس، عبدالغنی ولد عامر شہزاد، بی بی جاوید اقبال ولد جاوید اقبال، محمد ندیم ولد محمد شبیر خاں، بی بی ناصر علی ولد ناصر علی، محمد علی ولد محمد ریاض، بی بی ثریا ولد علی احسان، سعدیہ ولد بہادر علی شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے متاثرہ نرسری کا دورہ کیا اور نوزائیدہ بچوں کے علاج کی سہولیات کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے او پی ڈی اوردیگر وارڈز کے دورے بھی کئے اور مریضوں اور لواحقین سے بات چیت کی۔ چیف سکریٹری زاہد اختر زمان،ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار حمید، کمشنرساہیوال ڈویژن شعیب اقبال سید،آر پی او محبوب رشید،ڈپٹی کمشنرصائمہ علی، ڈی پی او فیصل شہزاد اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں